12 September 2012


کہاں کہ مکتب وملا، کہا ں کے درس و نصاب.

بس اک کتابِ محبت رہی ہے بستے میں.TM

بجھ بجھا جاتا ہے یہ بجھتی ہوئی رات کے ساتھ.
دل ہمارا بھی ہے قسمت کے ستارے جیسا.TM

پھر اس کے بعد کچھ بھی سنایا نہیں گیا.
جس پر ہنسے تھے لوگ, وہ رونے کی بات تھی.TM

ہم وہ قیدی ہیں بدلتی نہیں حالت جن کی.
بس نئے سال پہ زنجیر بدل جاتی ہے.TM

کل رات بہت غور کیا سو ہم اے جونؔ.
طے کر کے اٹھے ہیں کہ تمنا نہ کریں گے.TM

دسترس میں تُو ہو نہ ہو میری.
تیرے تَخُیل میں جگہ بنانی ہے.TM

اتنے چُپ کیوں ہو رفیقانِ سفر! کچھ تو کہو.
درد سے چُور ہوئے ہو، کہ قرار آیا ہے؟TM

ہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں.
اب بتا کون سے دھاگے کو جدا, کس سے کریں؟TM

مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید.
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں.TM

وہ نہیں ہے تو یونہی دل کو دُکھانے کے لئے.
چھیڑ دی ہم نے کسی یارِ دل آزار کی بات.TM

ہمارے عہد کے الجھے ہوئے سوالوں کا.
جواب صرف خاموشی ہے کیا کہا جائے.TM

دلوں کا حال تو یہ ھے کہ ربط ھے نہ گُریز.
محبتیں تو گئی تھیں عداوتیں بھی گئیں.TM

اے میری ذات کے اچھے پہلو.
کیا برے لوگ تھے تو جن پہ کھلا.TM


ہے یہ حالت کہ مرے پاس بچا کچھ بھی نہیں.
یعنی خود کو بھی کہیں پر میں گنوا بیٹھا ہوں.TM


نہ وہم کر کہ سبھی خواب تیرے آنے تک.
پڑے رہیں گے وہیں پر جہاں پڑے ہوئے ہیں.TM


میری مجبوری کو دیوار نے سمجھا ہی نہیں.
سائے سے بڑھ کے رفاقت کی طلب تھی مجھ کو.TM


کوئی بھولا ہوا غم ہے جو مسلسل مجھ کو.
دل کے پاتال سے دیتا ہے صدا شام کے بعد.TM


تُمہارے موجود رہنے تک حسین ہیں.
چاند، تارے، آسمان، دنیا وغیرہ.TM


لوگ شوقیہ الجھ پڑتے ہیں مجھ سے.
اس قدر دلچسپ مسئلہ ہوں میں.TM


مجـــــھ ســــــــے اس طـور شناسا تھا وہ جانے والا.
میں جو ہنستی تو وہ کہتا تھا، تجھے کیا دُکھ ہــــے؟TM


غافِل نہ جانیے مُجھے, مَصروفِ جنگ ھُوں.
اُس چُپ سے, جو کَلام سے, آگے نِکل گئی.TM


الٰہی کیا کرے کوئی, کہاں تک ضبطِ گریہ هو.
کوئی رہ رہ کے نشتر سے چبھوتا هے مرے دل میں.TM


ٹھیک ہے دشت بھی ہوں، باغ بھی ہوں، دریا بھی.
جس کو جیسا نظر آؤں مجھے ویسا سمجھے.TM


ہر ایک گھر پہ مسلط ھے دِل کی ویرانی.
تمام شہر پہ سایہ مرے مکان کا ھے.TM


ہاتھ اُٹھائے تھے بے دلی سے کیوں؟
لوٹتے ہی لڑی دُعا مجھ سے.TM


کہیں یارو!! کوئی اُن کی خبر ہے؟
جنھیں دیکھے زمانے ہو گئے ہیں.TM


عمر بھر جن کو میسر نہیں ہوتی منزل.
خاک راہوں کی اڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں.TM


آنکھ لگ جائـے تو سرہانـے کھڑا رہتا ہے.
مرگیا مَیں تو میرے دُکھ نے اجڑ جانا ہے.TM


وہیں پہ جا کے کریں گے شکایتیں ساری.
ہم اپنے خواب تہِہ خاک لے کے جائیں گے.TM


جانے کس حال میں ہم ہیں کہ ہمیں دیکھ کے لوگ.
ایک پل کے لیے رکتے ہیں گزر جاتے ہیں.TM


ہمارے خواب ہیں مکڑی کے جالے.
ہم اپنے آپ میں الجھے ہوئے ہیں.TM


راحت کی جُستَجُو میں خوشی کی تلاش میں.
غم پالتی ہے عُمَرِ گُریزاں نئے نئے.TM


رہا نہ دل میں وہ بے درد، اور درد رہا باقی.
مقیم کون ہوا، مقام کس کا تھا.TM


بند ہے ہر کسی کا در مجھ پر.
شکر ہے در بدر نہیں ہوں میں.TM


عالمِ کرب ہے آباد ہمارے اندر
پُرسکوں ہم نظر آتے ہیں بظاہر کتنے.TM


تمہارے بعد ہمیں وسوسوں نے گھیر لیا.
کسی نے ہنس کے بلایا تو ڈر سے گئے.TM


ہم لوگ کسی اور زمانے کے مکیں ہیں.
سو ہم کو یہاں ٹھیک سے رہنا نہیں آیا.TM


یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر.
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو.TM

یَــــاد آتے ہیں تو پھر ٹُوٹ کے یَــــاد آتے ہیں.
کُچھ گُزرے ہوئے لَمحے کُچھ بِچھڑے ہوئے لوگ.TM


یہ اداسیوں کے موسم ایسے ہی ضائع نہ جانے پائے.
کسی درد کو جگاؤ! پکاروں کسی یاد کو.TM


اِک سمت کی جُستجو کی دُھن میں. ہر سمت کو جا رہا ہُوں کب سے.TM


شکوےآنکھوں سے گر پڑے ورنہ.
لفظ ہونٹوں سے کب کہے میں نے.TM


.کوئی الہام ان کو ہو جائے  
TM.دل کی حا لت کہی نہیں جاتی


کیا لوگ کہیں گے, کا گُماں کِس لیۓ ہر وقت.
کُچھ دیر زمانے کو بُھلا کیوں نہیں دیتے.TM


کیا تم نے خود ہی اسے لاحاصل سمجھ لیا؟
TM.ابھی تو اللہ کا جواب آنا باقی ہے


.اس نے ایک ہی آواز پہ آ جانا تھا
TM.مجھ سے گم ہو گئے الفاظ بلانے والے


.اکیلے پن کا سفر جب میرا مقدر ہے 
TM.تو پھر اے وعدہء شکن تیری رہگزر بھی کیوں


.دردوں کو میرے آہ بھی لگتی نہیں کبھی
TM.کمبخت چپکے ایسے ہیں جیسے بدن پہ کھال


.اس نے جب پلکوں کو جنبش دی عدم 
TM.رائیگاں سب گفتگو کے فن گئے


.حادثے اور بھی گزرے ہیں گراں مجھ پہ مگر
TM.مرحلہ..!!!! اس سے بچھڑنے کا مجھے مار گیا